Share this link via
Personality Websites!
عَلَیْہ السَّلام جب قُربان ہونے کو تیار تھے، ان دونوں کے پیشِ نظر دُنیا نہیں تھی، اپنی واہ وا نہیں تھی، اپنا مقام، اپنا رُتبہ، اپنی تعریف کچھ بھی مَقْصُود نہیں تھا، ان کے دِل تڑپ رہے تھے تو صِرْف ایک چیز کے لیے، وہ یہ کہ اللہ پاک ہم سے راضِی ہو جائے۔ مَعْلُوم ہوا قربانی کا جو اَصْل فلسفہ (Basic philosophy)ہے، وہ ہے ہی اللہ پاک کی رِضا۔ لہٰذا جب ہم قربانی کریں تو *دِل میں اِخْلاص کا جذبہ ہونا چاہئے *لِلّٰہیت ہو *ہمارے پیشِ نظر نہ اپنی تعریفیں ہوں *نہ واہ وا ہو *نہ دِکھلاوا ہو *اُدھر جانور کے گلے پر چُھری چل رہی ہو، اِدھر ہم اللہ پاک کی رِضا کے لیے مچل رہے ہوں *دِل ہی دِل میں دُعائیں کر رہے ہوں: اے اللہ پاک! میرے بَس میں جو تھا، میں نے کر دیا، اے اللہ پاک! اپنے خلیل کے صدقے مجھ سے راضِی ہو جا۔
مولیٰ مجھ کو نیک بنا دے اپنی اُلفت دِل میں بَسا دے
اپنی رِضا کا دیدے مژدہ یا اللہ ! میری جَھولی بَھر دے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اِخْلاص عَمَل کی جان ہے۔ قُبُولیت کی چابی ہے، عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: اِخْلاص کے بغیر عَمَل بےجان جسم جیسا ہے، یہ گویا وہ درخت ہے، جس پر پھل نہیں لگتے۔ لہٰذا جس طرح بےجان جسم دفنانے کے قابِل ہوتا ہے، یُونہی اِخْلاص کے بغیر عَمَل بھی کسی کام کا نہیں ہے، جیسے بغیر پھل کا درخت جَلانے کے کام آتا ہے، یُونہی رِیا (یعنی دِکھلاوے) والی عِبَادت بھی جہنّم میں جانے کا سبب ہے۔([2])
عطا کر دے اخلاص کی مجھ کو نعمت نہ نزدیک آئے ریا یاالہٰی!([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami