Share this link via
Personality Websites!
ہو دِل میں، دل میں چُبَھن سی ہو کہ کتنا خُوش نصیب جانور ہے، اپنے رَبّ کے نام پر قُربان ہو رہا ہے، کاش! میں بھی اپنے رَبّ کے نام پر اپنا سب کچھ قُربان کر جاؤں...!!
یہ اِک جان کیا ہے، اگر ہوں کروڑوں ترے نام پر سب کو وارا کروں میں([1])
حضرت اِبْراہیم عَلَیْہ السَّلام کی مُقَدَّس کیفیت
روایات میں ہے: جب حضرت ابراہیم عَلَیْہ السَّلام نے بیٹے کو قُربانی کے لیے لِٹا لیا، پِھر اُن کے سَر کے قریب بیٹھ گئے، چُھری ان کی گردَن پر رکھی، پِھر کہا:اے اللہ پاک! ہمیشہ ہمیشہ تک تیری ہی حمد ہے، تُو نے مجھے بُڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا، پِھر اس کے ذریعے یہ آزمائش فرمائی، فَاِنْ کَانَ ہٰذَا رِضًا لَکَ فَاُسَلِّمُ لِاَمْرِکَ پس اگر تیری رِضا اسی میں ہے تو میں تیری رِضا کی خاطِر تیرے حکم کے سامنے سَر جھکاتا ہوں۔([2])
کِتَابَوں میں لکھا ہے: جب حضرت ابراہیم عَلَیْہ السَّلام نے یہ کہا تو فِرشتے بھی رَوئے اور انہوں نے اللہ پاک کے حُضُور عرض کیا: مولیٰ! یہ تیرے نبی ہیں، ان میں سے ایک (تیری رِضا کی خاطِر) مُنہ کے بَل لیٹا ہے، دوسرا (تیری رِضا کی خاطِر) ذَبْح کرنے کو تیار ہے۔ پِھر اللہ پاک نے اسماعیل عَلَیْہ السَّلام کے فِدیے میں جنّتی مینڈھا بھیج دیا۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! اس عظیمُ الشَّان قُربانی کے وقت ان 2بلند رُتبہ نبیوں کی حقیقتاً دِل کی کیفیت کیا تھی، یہ تو نہ ہم جان سکتے ہیں، نہ اُس تک پہنچ سکتے ہیں، البتہ! یہ روایات اُن کیفیتوں کی کچھ جھلک دِکھا رہی ہیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہ السَّلام جب قُربانی کر رہے تھے اور حضرت اسماعیل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami