Share this link via
Personality Websites!
پائیں۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! آخر میں قربانی کے تَعَلُّق سے چند اہم آداب عرض کرتا ہوں۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-
(پارہ:17،سورۂ حج:37)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے: زمانۂ جاہلیت میں غیر مُسْلِم اپنی قُربانیوں کے خُون سے کعبہ شریف کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس طرح کرنے سے ہمیں اللہ پاک کا قُرب ملے گا۔ پھر جب اِسلام کا نُور جگمگایا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے حج کیا، قُربانیاں پیش کیں تو اُن کی تعلیم کے لیے یہ آیتِ کریمہ اُتری اور بتایا گیا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں نہ تو قُربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خُون بارگاہِ اِلٰہی میں پہنچتا ہے، ہاں! تمہاری طرف سے تقویٰ، پرہیز گاری اللہ پاک کی بارگاہ میں پہنچتی ہے اور قُربانی کرنے والا صِرْف اچھی نیّت ، اِخْلاص اور تقویٰ کی شرائط پر عمل کر کے ہی اللہ پاک کو راضِی کر سکتا ہے۔([1])
جانتا ہے بارگاہِ حق کے آئین و اُصول؟ دِل کے ٹکڑوں کی یہاں پر نذر ہوتی ہے قبول
شیخ اَبُوطالِب مکّی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اس آیتِ کریمہ کی جو وَضاحَت فرمائی ہے، اُس کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami