Share this link via
Personality Websites!
ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے بکریاں (Goats)عطا فرمائیں اور فرمایا: یہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم میں بانٹ دو...!! چنانچہ میں نے سب میں بکریاں بانٹ دیں، ایک بکری بچ گئی، میں لے کر واپس حاضِر ہوا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: یہ تم رکھو! اور اپنی قربانی کر لو...!! ([1])
سُبْحٰنَ اللہ !پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! ہمارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کتنے سخی ہیں...!! کاش! ہمیں بھی یہ سعادت ملے، جنہیں رَبِّ کریم نے وُسْعت عطا کی ہے، انہیں چاہیے کہ جتنی طاقت ہوبکریاں، بڑے جانور خرید کر غریبوں کو دَیں بلکہ امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ تَو فرماتے ہیں کہ غریبوں کو جانور کٹوانے (یعنی قصّابMeat seller) کی فیس بھی دینی چاہیے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم ! ادائے مصطفےٰ کو ادا کرنے اور غریبوں کی دِل جُوئی کا ثواب نصیب ہو گا۔
پیارے اسلامی بھائیو!قربانی کرنا اللہ کریم، رحمٰن و رحیم کا حکم ہے،قربانی کرنا رَحْمتوں والے نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سُنّت ہے، لہٰذا رضائے اِلٰہی کے لیے، ذوق و شوق کے ساتھ، خوش دِلی سے قربانی کیجیے!* مسلمانوں کی امّی جان حضرتِ عائشہ صدیقہ، طیبہ، طاہرہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: نَحْر (یعنی 10 ذو الحج) کے دِن اللہ پاک کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل خون بہانا (یعنی جانور ذبح کرنا) ہے، بےشک قربانی کے جانور روزِ قیامت اپنے سینگوں، بالوں اور
[1]...بخاری، کتاب الاضاحی، باب فی اضحیۃ النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ...الخ، صفحہ:1415، حدیث:5555۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami