Share this link via
Personality Websites!
گئے، اب اُن کے ساتھ نیک سلوک کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ مِنَ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ اَنْ تُصَلِّیَ لَہُمَا مَعَ صَلَوٰتِکَ وَ تَصُوْمَ لَہُمَا مَعَ صِیَامِکَ
ترجمہ:بیشک مرنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزوں کے ساتھ اُن کے لیے بھی روزے رکھو! ([1])
اس حدیثِ پاک کے 2معنیٰ ہو سکتے ہیں: (1): جب بھی تم نماز پڑھو! روزہ رکھو تو اِس کا ثواب اپنے ماں باپ کو پہنچا دیا کرو! (2): دوسرا معنیٰ یہ ہو سکتا ہے کہ اُن کی طرف سے اُن کے نماز روزوں کا فدیہ دے دو کہ یہ بھی اُن کی وفات کے بعد اُن کے ساتھ بھلائی کی ایک صورت ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ !مَعْلُوم ہوا؛ صِرْف خَتْمِ قُل شریف، دَسْواں، چالیسواں وغیرہ ہی نہیں بلکہ ماں باپ کے حقوق میں سے ہے کہ اَوْلاد اپنی ہر ہر نیکی میں انہیں شامِل کرے، جو بھی نیکی کرے، اس کا ثواب ماں باپ کو پہنچائے اور نفل نیکیاں کر کر کے اُنہیں ثواب پہنچاتا رہے۔ لہٰذا اللہ پاک نے وُسْعت دِی ہو تو ماں باپ کے اِیْصالِ ثواب کے لیے علیحدہ قربانی خریدئیے! اگر اتنی وُسْعت نہ ہو تو اپنا ہی واجب ادا کیجیے اور اس کا ثواب مَرْحُوم والدَین کو بھیج دیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! قربانی کے تَعَلُّق سے ایک اور پیاری پیاری ادائے مصطفےٰ یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کے درمیان جانور تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عُقبہ بن عامِر رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ محبوبِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami