Share this link via
Personality Websites!
جاتا تھا، وہ فرماتی ہیں: ہم جب بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ہم سے اس بات پر بیعت لی کہ ہم اپنے فوت شُدگان کے لیے فاتحہ پڑھا کریں گے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ !اس سے اَندازہ لگائیے کہ رحمتِ دوجہان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اِیْصالِ ثواب کو کتنی اہمیت دیا کرتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سے اس بات پر باقاعِدہ بیعت لی کہ میّت کے لیے سُورۂ فاتحہ کی تِلاوت کیا کریں گے۔
کیا فوت شُدگان کو ثواب پہنچتا ہے؟
صحابئ رسول حضرت اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں...!! ہم اپنے فوت شُدگان کے لیے صدقہ کرتے ہیں، ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، کیا یہ انہیں پہنچتا ہے؟ فرمایا: ہاں! یہ انہیں پہنچتا ہے اور وہ اس (ایصالِ ثواب) پر اسی طرح خوش ہوتے ہیں، جیسے تم (زندہ لوگ) تحفہ ملنے پر خوش ہوتے ہو۔([2])
مَرْحُومِیْن کے لیے بھی قربانی کیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! جن کے والدین دونوں یا ایک دُنیا سے رُخْصت ہو چکے ہوں، انہیں چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے اِیْصالِ ثواب کے لیے بھی الگ سے قربانی کی سعادت پایا کریں۔ ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میں اپنے ماں باپ کے ساتھ اُن کی زندگی میں نیک سلوک کرتا تھا، اب وہ وفات پا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami