Share this link via
Personality Websites!
سنّتوں سے بھرپُور ہو *اور بالخصوص! جن کو اللہ پاک نے توفیق عطا فرمائی ہے، اللہ پاک نے استطاعت بخشی ہے تَو ہر سال اپنے مَحْبُوب آقا، جان سے عزیز آقا، پیارے پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اِیْصالِ ثواب کے لیے علیحدہ سے قربانی کرنے کی سَعادت پایا کریں۔
یہاں ایک بات کی وَضَاحت کر دُوں؛ جن پر قربانی واجب ہو، اُن کے لیے لازِم ہے کہ اپنی ہی جانِب سے قربانی کریں،([1]) پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی جانِب سے کرنے کے لیے الگ سے جانور خریدیں یا بڑے جانور میں علیحدہ (Separate)حصّہ ڈالیں۔ اگر اتنی اِسْتطاعت نہ ہو، صِرْف اپنی واجب قربانی ہی کر سکتے ہوں تَو قربانی اپنی ہی جانِب سے یعنی اپنا واجب ادا کرنے کے لیے ہی کیجیے! اور اس کا ثواب بارگاہِ رسالت میں نَذرکر دیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہر سال اُمّت کی جانِب سے قربانی کرتے تھے، اِس ادائے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ اِیْصالِ ثواب جائِز ہی نہیں بلکہ سُنّت ہے اور یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ اِیْصالِ ثواب صِرْف مُردَوں کو نہیں، زِندوں بلکہ آیندہ آنے والوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔
روایات میں ہے: سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تَاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم میّت کے لیے اِیْصالِ ثواب کی ترغیب دِلایاکرتے تھے۔([2])ایک صحابیہ رَضِیَ اللہ عنہا جنہیں بنتِ عَفِیف کہا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami