Share this link via
Personality Websites!
وفات پاگیا تو قیامت کے دن اس کی نیکیاں قرض خواہوں کو دی جائیں گی،تین پیسہ قرض کے بدلے 7 سو نَمازیں باجماعت دینی پڑیں گی۔جب قرضہ دبا نے والے کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی تو قرض خواہوں کے گناہ مقروض کے سر پر رکھے جائیں گے اور آگ میں پھینک دیا جائے گا ۔ ([1])
قرض نہ لوٹانے کے گُنَاہ سے بچنے کے طریقے
*قناعت اختیار کیجیے! یعنی اَوّل تو یہ کوشش کیجیے!کہ کسی سے کوئی چیز لینی ہی نہ پڑے، اللہ پاک نے جتنا کچھ عطا فرمایا ہے،اسی میں گزارا کرنے کی عادَت بنائیے اور اُدھار صرف وصرف اسی صورت میں لیں جبکہ اس کے بغیر چارہ ہی نہ ہو *اگر اُدھار لینا ہی پڑ جائے تو اسے جلد از جلد اُتارنے کی کوشش کیجیے!کہ قرض ایک بوجھ ہے،جس کے سبب آدمی معاشرے میں بھی رُسْوا ہو سکتا ہے اور جنّت میں جانے سے بھی روک دیا جاتا ہے*جب قرض لیں تو اسے واپس لوٹانے کی پکی نیت بھی لازمی کر لیجئے ! حدیث پاک میں ہے:قرض لیتے وقت جس کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ پاک اس کی مدد فرمائے گا *مال کی محبّت دِل سے نکال دیجیے!کہ یہ بُری محبّت کئی ایک گُنَاہوں کی جڑ ہے *اپنی آمدن اور خرچ کے نظام کو بہتر کیجیے! اگر قرض ذمہ ہے تو اسے اُتارنے کے لئے جدول بنائیے!اس کے مطابق کچھ نہ کچھ رقم نکالیے!اور جلد از جلد قرض اُتارنے کی راہ بنائیے *قرض کی ادائیگی کے لیے اَوراد و وظائِف پڑھیئے! اس کے لئے درودِ پاک کی کثرت بہت مفید ہے۔
سیکھنے سِکھانے کے حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دعا
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami