Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کی عطا کی ہوئی اس عظیم نعمت (جوانی )کی قدر کیجئے۔ اُس کی عبادت سے اِس نعمت کا شکر ادا کیجئے۔ اس میں خوب نیکی کی دعوت کو عام کیجئے اور نیک کاموں کو بجا لائیے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ بروزِ قیامت بندہ جب تک امورِ جوانی کا حساب نہ دے لے قدم نہیں اٹھا سکے گا ۔([1]) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’جَوانی کھیل کُود میں گنوا کر بڑھاپے میں جب اَعضاء بے کار ہو جائیں ، کثرتِ عِبادت کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے،جو کرنا ہے جَوانی میں کرلوکہ نیک جوان کا بَہُت بڑا درَجہ ہے۔لہٰذا صحّت،جوانی،مالداری اورزندَگی کو رائیگاں (یعنی ضائِع)نہ جانے دو، اِس میں نیک اَعمال کر لوکہ یہ نعمتیں باربار نہیں ملتیں۔میاں محمد بخش رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
سدا نہ باغیں بلبل بولے ، سدا نہ باغ بہاراں سدا نہ ماں پَے ،حُسْن جَوانی ، سدا نہ صحبتِ یاراں
یعنی یہ حسین جوانی ہمیشہ سلامت نہیں رہتی اور نہ ہی دوست و احباب کی صحبتیں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ باغ میں روزانہ چہچہانے والی بلبلیں اور باغ کی بہاریں بھی سدا رہنے والی نہیں ۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! جوانی کے اس پودے کو نیکیوں کی روشنی میں پروان چڑھائیے۔ اپنے حسنِ اخلاق سے معاشرے میں پیار و محبت کی خوشبو پھیلائیے۔ اپنے علاقے میں دینی کاموں کی مہکتی فضا پیدا کیجئے اور خوب خوب نیکی کی دعوت عام کیجئے ۔
جوانی کو کن کاموں میں گزارا جائے ؟ اس حوالے سے امیرِ اہلسنت کے مدنی مذاکروں میں ہمارے لیے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ آئیے کچھ مدنی پھول سنتے ہیں :
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami