Share this link via
Personality Websites!
وقت خیال رکھے گا جب وہ بوڑھا اور کمزور ہوجائے گا اور اسے بڑھاپے میں بھی اچھی قوتِ سَماعَت،بَصارت،طاقت اور ذَہانت عطا فرمائے گا۔حضرت ابو الطَّيِّب طبری رحمۃُ اللہ علیہ نے سوسال سے زیادہ عمر پائی ،آپ رحمۃُ اللہ علیہ ذہنی و جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا تھے، آپ رحمۃُ اللہ علیہ سے کسی نے صحت کا راز پوچھا تو ارشاد فرمایا: ’’میں نے جوانی میں اپنی جسمانی صلاحیتوں کو گناہ سے محفوظ رکھااور آج جب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو اللہ پاک نے انہیں میرے لئے باقی رکھا ہے۔اس کے برعکس حضرت جنید رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو لوگوں سے مانگ رہا تھا ،آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا:اس شخص نے جوانی میں اللہ پاک (کے حقوق)کو ضائع کیا تو اللہ پاک نے بڑھاپے میں اس (کی قوت ) کو ضائع فرما دیا۔([1])
مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پانچ (چیزوں )کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: ’’ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، تندُرُستی کو بیماری سے پہلے ، اَمیری کو فقیری سے پہلے ، فرصَت کو مصروفیّت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔‘‘([2])
اس حدیث مبارکہ کی شرح میں ہے کہ سمجھدار شخص شام ہونے پر صبح کا انتظار نہیں کرتا اور صبح ہونے پر شام کا انتظار نہیں کرتا بلکہ اسے لگتا ہے کہیں ایسا نہ ہو اس سے پہلے ہی مجھے موت آجائے، اس لئے وہ نیک اعمال کرتا ہےجو اسے موت کے بعد کام آئیں گے، اسی طرح وہ صحتمندی کے زمانے کو غنیمت جانتے ہوئے اس میں نیکیاں کرتا ہے۔([3])
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami