Share this link via
Personality Websites!
دیا کہ میرے قبیلے کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لئے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں ۔ آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلے کا ایک ایک بچہ دولتِ اسلام سے مالا مال ہوگیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہو جانا مدینہ منورہ میں اشاعتِ اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت مُصعَب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی محنت اور اخلاق کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ کی گلیوں میں اسلام کی آواز گونجنے لگی۔ بڑے بڑے قبائل اسلام میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسا ماحول بن گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو وہاں اسلام کی مضبوط بنیاد قائم ہو چکی تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک نوجوان چاہے تو نہ صرف اپنی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے اور یہ انقلاب اگر ایمان سے معمور اور نیکیوں سے بھرپور ہو تو یہی چیز دین کو مطلوب ہے۔
یاد رہے کہ جوانی اللہ کی عبادت اور خدمتِ دین کے کاموں میں گزارنا نہ صرف ہماری آخرت کی بہتری کے لیے ہے بلکہ یہ دنیا میں بڑھاپے کی حالت میں بہترین سہارے کا ذریعہ بنتا ہے ، ہر نوجوان چاہتا ہے کہ میں اپنے بڑھاپے کے لیے کچھ اسباب تیار کرلوں ۔ آئیے سنیے کہ اپنے بڑھاپے کی زندگی بہتر بنانی ہے تو اس کا کیا راز ہے ؟ چنانچہ ؛
حضرت علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃُ اللہ علیہ جوانی میں عبادت کے متعلق فرماتے ہیں :’’جس نے اللہ پاک کو اُس وقت یاد رکھا جب وہ جوان اور توانا تھا، اللہ پاک اُس کا اُس
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami