Share this link via
Personality Websites!
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے ایک نہایت خوشحال اور ناز و نعم میں پلنے والے نوجوان تھے۔ بہترین لباس، اعلیٰ خوشبو اور آسائش بھری زندگی ان کا معمول تھی۔ مگر جب ان کے دل میں اسلام کی روشنی داخل ہوئی تو انہوں نے سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم کی رضا کے لیے قربان کر دیا۔ چنانچہ؛
اعلانِ نبوت کے بارہویں سال حج کے موقع پر مدینہ کے 12اشخاص مِنیٰ کی گھاٹی میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم سے بیعت ہوئے ۔تاریخ ِاسلام میں اس بیعت کو ”بَیْعَت ِعَقَبَۂ اُولٰی“ کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم سے یہ درخواست بھی کی کہ احکامِ اسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلِّم ان لوگوں کے ساتھ بھیج دیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم نے حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ وہ مدینہ میں حضرت اَسْعَدْ بِن زُرارَہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر ٹھہرے اور انصار کے ایک ایک گھر میں جا جا کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور روزانہ ایک دو نئے آدمی آغوشِ اسلام میں آنے لگے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ مدینہ سے قباء تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔
قبیلۂ اَوْسْ کے سردار حضرت سعد بن معاذ بہت ہی بہادر اور بااثر شخص تھے۔ حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ نے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے پہلے تو اسلام سے نفرت و بیزاری ظاہر کی مگر جب حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ نے ان کو قرآنِ مجید پڑھ کر سنایا تو ایک دم اُن کا دل نرم پڑگیا اور اس قدر متاثر ہوئے کہ سعادتِ ایمان سے سرفراز ہو گئے([1])اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرما
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami