Share this link via
Personality Websites!
بخاری شریف کی شرح فَتْحُ البَارِی میں ہے: بچپن کے ماہ و سال گزارنے کے بعد انسان بالغ ہونے پر جوانی کے دور میں داخل ہوجاتا ہے اور 30 سال کی عمر تک جوان رہتا ہے، اس کے بعد جوانی ڈھلنا شروع ہوتی ہے اور40 سال کی عمر میں زندگی کے آخری مرحلے بڑھاپے کی شروعات ہوجاتی ہے۔([1]) گویا بلوغت سے لے کر 40 سال تک جوانی ہوتی ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً یہ جَوانی اللہ پاک کی ایک نعمت ہے ،اگر ایک بار چلی گئی تو دوبارہ واپس نہیں آئے گی۔ہم میں سے اکثر ایسے افراد ہیں جو اپنی جوانی کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی جوانی کو اللہ کی عبادت میں ،نیکیوں میں اور مختلف دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں گزاریں ۔
خدمتِ دین کے کاموں میں سے ایک عظیم کام اور اہم فریضہ نیکی کی دعوت عام کرنا ہے ،اس فریضے کی ادائیگی میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اگر کوئی نوجوان اللہ پاک کی رضا کی خاطر جوش وجذبے سے نیکی کی دعوت دے اور بُری باتوں سے منع کرے تو وہ معاشرے پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم کے اکثر صحابہ جوان تھے اور اخلاق و آداب میں حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم کے تربیت یافتہ تھے اور ان کی دعوت وتبلیغ سے دینِ اسلام کو خوب تقویت پہنچی ۔
نوجوان صحابی کی نیکی کی دعوت کا اثر
نوجوان صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان میں سے ایک حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ ہیں
[1]... فتح الباری ،کتاب النکاح، باب قول النبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم من استطاع...الخ،9/136، تحت الحدیث : 5065
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami