Share this link via
Personality Websites!
آپ ہی کا حصّہ ہے*سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت ہی بااَخْلاق اور ملنسار تھے، اَکْثَر جب آپ کی خِدْمت میں کوئی حاضِر ہوتا تو مرحبا! مرحبا کہہ کر اِستقبال فرماتے *آپ کی طبیعت میں سَادگی اور عَاجزی بےمثال تھی، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: میں نے کئی بار دیکھا کہ جب آپ کی خِدْمت میں دُعا کی درخواست پیش کی جاتی تو فرماتے: میں تَو دُعا گو بھی ہوں اور دُعا جَو بھی ۔ یعنی دُعا کرتا بھی ہوں اور آپ سے دُعا کا طلبگار بھی ہوں۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! مَرْحَبَا کا معنی ہے: آپ کا آنا وُسْعت والا ہے، یعنی آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے لئے ہمارے پاس بہت گنجائش اور کشادگی ہے۔ اردو میں اس کے لئے خوش آمدید کہتے ہیں اور انگلش میں Well Comeبولتے ہیں۔ یہ کسی کے اِستقبال کا بہت ہی پیارا اَنداز ہے، ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا عام مَعْمُول تھا کہ آپ مَرْحَبَا کہہ کر آنے والوں کا اِستقبال فرماتے تھے، عموماً جب مختلف قبیلوں کےلوگ حاضِرِ خدمت ہوتے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ان کا اچھی طرح اِستقبال فرماتے اور مَرْحَبَا کہا کرتے تھے، ایک مرتبہ قبیلہ دَوْس کے 400 افراد حاضِرِ خِدْمت ہوئے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اِستقبال کرتے ہوئے فرمایا: مَرْحَبًا اَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوْہًا وَ اَطْیَبُہُمْ اَفْوَاھًا وَ اَعْظَمُہُمْ اَمَانَۃً خوش آمدید...!! کتنے اچھے چہروں والے، پاکیزہ مُنہ والے اور امانت داری میں بہت عظمت والے لوگ آئے ہیں۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami