Share this link via
Personality Websites!
*سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اَوْلیائے کرام سے بہت ہی محبّت فرمایا کرتے تھے، خُود فرماتے ہیں: میرے آباء و اَجْدَاد تمام ہی قادری (یعنی حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مرید) تھے*قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی عادت تھی کہ حضور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا نام سُنتے تو ادب سے سَر جھکا دیتے تھے۔ ([1])
*سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دَورۂ حدیث شریف (یعنی عالِم کورس) کی تکمیل پیلی بھیت (ہند )سے کی*آپ کی دستار بندی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کی *18 سال کی عمر مبارک میں اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے آپ کو خِلافت عطا فرمائی۔ ([2])
*1910ء میں آپ مدینۂ پاک حاضِر ہوئے اور 70 سال سے زیادہ عرصہ یہاں قیام کا شرف نصیب ہوا۔ آخِر مدینے ہی میں انتقال ہوا۔ آپ کا مزارِ پاک بقیع شریف میں ہے۔([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے پِیرِ کامِل کے اَوْصاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: *حُضُور سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ عِلْم و عمل کے پیکر تھے *آپ اپنے گھر سے روانہ ہوئے اور بغداد سے ہوتےہوئے مدینہ شریف پہنچے، اس سَفَر میں آپ نے بہت سارے اِمتحانات کا سامنا کیا، یہ ایسے سخت اِمتحانات تھے کہ ان پر صبر کر پانا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami