Share this link via
Personality Websites!
شریف کے آخر میں ہے: وَ اِنْ سَاَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہٗ اور اگر وہ (یعنی وَلِیُّ اللہ) مجھ سے کچھ مانگے تو میں (اللہ رَبُّ العالمین) ضرور بہ ضرور اُسے عطا کرتا ہوں۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ رَبّ کریم کی بارگاہ میں وَلِیُّوں کا مقام ہے، ان کی عزّت ہے کہ یہ جو فرما دیں، جو کچھ اللہ پاک سے مانگ لیں، رَبِّ رحمٰن و رَحیم مَحض اپنے کرم سے ان کی بات ٹالتا نہیں ہے، ان کی مانگ پُوری فرما دیتا ہے۔
قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا تعارُف
پیارے اسلامی بھائیو! 4 ذُو الْحَجَّۃِ الْحَرام کو یومِ قطبِ مدینہ ہے یعنی اس دِن، وقت کے ولئ کامِل، عالِمِ باعَمَل، عاشِقِ رسول، سیدی قطبِ مدینہ حضرت ضیاءُ الدِّین مدنی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا وِصَال مبارک ہوا۔ سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پِیر صاحِب یعنی عطّاریوں کے دادا پیر ہیں۔
*آپ کی وِلادت: 1877ء میں ہوئی*سیالکوٹ آپ کا آبائی شہر ہے*آپ کا پیدائشی نام احمد مُختار ہے*آپ کے دادا جان نے آپ کا نام ضیاء الدِّین رکھا*آپ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کی اَوْلاد سے ہیں*آپ کا خاندان عُلَما اور صُوفیا کا گھرانہ تھا*آپ کے آباء و اَجْداد میں شیخ عبد اللہ قادری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ صاحِبِ کَرامت ولی تھے، تقریباً 16وِیں صدی عیسوی میں ہجرت کر کے مدینہ مُنَوَّرہ چلے گئے تھے*اسی طرح شیخ عبد الحلیم قادِری بھی آپ کے آباء و اَجْداد میں سے ہیں، یہ بھی بڑے باکمال عالِم و صُوفی تھے۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami