Share this link via
Personality Websites!
عارِف بیٹا! آپ کے گھر سے خط آیا، وہ پڑھ لو! یہ کہہ کر آپ نے خط مجھے دِیا، میں نے پڑھ کر چپکے سے رکھ دیا۔ فرمایا: بیٹا! خط پڑھ لیا؟ میں نے کہا: جی پڑھ لیا۔ فرمایا: کیا اِرادہ ہے؟ عرض کیا: میں مدینۂ پاک ہی میں رہنا چاہتا ہوں۔وَالِدہ کو بھی کچھ دِن میں صبر آ ہی جائے گا۔ سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: بیٹا! والِدہ کی بات مانو! اس میں تمہارے لئے بَرَکت ہے۔ میں نے پِھر عرض کیا: آپ کرم فرما دیں! میں مدینہ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا۔ اب قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ذرا جلال میں آ کر فرمایا: نہیں...!! چلے جاؤ! والدہ کا حکم مانو! تم اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! مدینہ طیبہ میں آؤ گے اور یہاں ہی رہو گے۔
عارِف صاحِب کہتے ہیں: مدینہ چھوڑنے کو دِل تو نہیں چاہ رہا تھا، پِھر بھی اَمِّی جان کے حکم اور پیر صاحِب کے ارشاد پر نہ چاہتے ہوئے بھی میں پاکستان واپس آ گیا۔ الحمد للہ! کچھ ہی عرصے بعد کرم ہوا،پِیر صاحِب کی دُعا رنگ لائی، محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے احسان فرمایا اور میرے لئے مدینۂ پاک میں مستقل رہنے کے اسباب بن گئے۔ ([1])
جناب مَسْعُود احمد کے لئے بشارت
جناب مَسْعُود اَحْمد قادری ضیائی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بھی سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مُرِید تھے، آپ کے ساتھ بھی تقریباً ایسا ہی واقعہ پیش آیا، کہتے ہیں: میں دوسری مرتبہ حج کے لئے حاضِر ہوا، حج کے بعد مدینۂ پاک حاضِری ہوئی، میرا اِرادہ تھا کہ اب بس مُستقل طَور پر مدینہ طیبہ ہی میں رِہائش کر لوں گا۔ چُنانچہ گھر سے چلتے وقت ہی والِد صاحِب سے اِجازت لے لی تھی، میں نے مدینہ پاک پہنچ کر کام کاج بھی ڈُھونڈ لیا اور یہیں رہنے لگا۔ کچھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami