Share this link via
Personality Websites!
شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ یعنی قربانی کے ہر بال کے بدلے تمہارے لئے ایک نیکی ہے۔([1])
جو خوش نصیب عاشقانِ رسول اس سال قربانی کی سَعادت حاصِل کر رہے ہیں، اللہ پاک اِن سب کی قربانیاں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور جو قربانی کی طَاقت نہیں رکھتے اور دل میں حسرت لئے ہوئے ہیں، اللہ پاک ان کو بھی طاقت نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
محمد عارِف قادری ضیائی سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مُرِیْد ہیں۔ فرماتے ہیں: 1974ء کی بات ہے، میں نے مدینۂ پاک میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مدینۂ پاک میں کاروبار کا بھی ایک ذریعہ بن گیا۔ بس والِدہ محترمہ سے اِجازت لینی باقی تھی، چنانچہ مدینۂ پاک سے والدہ کو خط لکھا اور اِجازت چاہی مگر والِدہ محترمہ نے اِجازت نہ دی اور فرمایا: پاکستان وَاپس آجاؤ! ساتھ ہی اَمِّی جان نے سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت میں بھی خط بھیجا، ان سے بھی درخواست کی کہ عارِف کی جُدائی مجھ سے برداشت نہیں ہو گی، مہربانی فرما کر اسے وَاپس بھیج دیجئے!
عارِف قادری صاحِب فرماتے ہیں: ایک دِن، رات کے وقت میں سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا (روزانہ رات کو جو محفلِ میلاد ہوتی تھی، اس میں شرکت کی)، محفل ختم ہونے کے بعد جب سب چلے گئے تو سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami