Share this link via
Personality Websites!
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم:اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول! الحمد للہ! قربانی کے اَیَّام قریب ہیں، ہر طرف سُنَّتِ ابراہیمی کے چرچے ہیں، خوش نصیب اَفراد اللہ پاک کے خلیل حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی سُنَّت کو ادا کرنے کیلئے مال خَرچ کر کے خوبصورت سے خوبصورت جانور خرید رہے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو قربانی کی توفیق نصیب فرمائے۔ حضرت زید بن اَرقم رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک بار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے بارگاہِ رسالت میں عَرْض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ پیارے نبی، رسولِ ہاشمی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْم یعنی تمہارے والِد ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی سُنّت۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے پوچھا:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟ فرمایا: بِکُلِّ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami