Share this link via
Personality Websites!
کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم میرے لئے کافی ہیں ۔ بیٹھے بٹھائے ٹکڑا دیتے ہیں،بہت اچھا دیتے ہیں، کھاتاہوں اور خوب کھاتا ہوں۔([1])*سیّدی قطب ِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ وِصال کے آخری اَیّام میں کچھ نہیں کھاتے تھے، جب یہ عرض کیا جاتا کہ رسولِ ہاشمی مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دُودھ اور شہد بہت پسند تھا۔ تو فرماتے: اچھا! لاؤ،پھرچند گُھونٹ پی لیتے۔([2]) *جب کوئی مدینۂ منورہ میں فوت ہوتا اور آپ کو اِطلاع دی جاتی کہ حضرت فُلاں کا اِنتقال ہو گیا ہے، ان کو بقیع میں دفن کر دیا گیا ہے۔آپ فورا ہاتھ اٹھاتے اور مرنے والے کے لئے دعا کرتے اور فرماتے اللہ پاک ہمیں بھی ان سے ملا دے۔([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
ایک مرتبہ سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے ہاں محفلِ میلاد تھی، حیدر آباد (ہند)کے ایک مشہور شاعِر مِرْزا شکور بیگ بھی حاضِر تھے، انہوں نے اپنی ہی لکھی ہوئی ایک نعت شریف پڑھی، اس کے آخری شعر کا مفہوم کچھ یُوں تھا: مرزا میں کچھ خوبی تو ہے، جس کی وجہ سے سرکار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہر سال اسے مدینے بُلا لیتے ہیں۔
مرزا صاحِب نے یہ نعت پڑھی، وقت گزر گیا، اب خُدا کی کرنی یُوں ہوئی کہ وہی مرزا شکور صاحِب جو ہر سال مدینے حاضِر ہوتے تھے، اب 2، 3 سال گزر گئے، حاضِری کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami