Share this link via
Personality Websites!
اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہاتھ کی ہتھیلی پر کائنات کو بالکل وَاضح مُلاحظہ فرما رہے ہیں۔ ([1])
قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی عشق بھری ادائیں
*سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی یہ کرامت تھی کہ جب بھی کوئی سید صاحِب تشریف لاتے، اگرچہ ان سے پہلے کوئی تعارُف نہ بھی ہوتا، پِھر بھی آپ جان لیتے کہ یہ سید ہیں، ان کا خُوب ادب کرتے، ہاتھ بھی چوما کرتے۔ ([2])*نامِ مصطفٰے کا حددَرجہ اَدب فرماتے، مصطفٰے نامی آپ کا ایک خادم تھا اور تھا بھی چھوٹی عمر کا، آپ کی عادَت تھی، اسے جب بھی بُلاتے تو یاسیّدی مصطفٰے کہہ کر پکارتے۔([3])*ایک مرتبہ آپ کے شہزادے نے اس خادِم کو کسی وجہ سے کام سے نکال دیا، جب قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے اس خادِم کو بُلایا اور صِرْف اس کے نام کا ادب کرتے ہوئے فرمایا: یاسیدی مصطفےٰ! تم کام تو چھوڑ رہے ہو، البتہ ہر مہینے آ کر اپنی تنخواہ مجھ سے لے جایا کرنا۔ ([4])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے...!! اس سے اندازہ لگائیے! صِرْف نامِ پاک کا جب اتنا ادب ہے تو سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ خُود سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا کتنا ادب کرتے ہوں گے۔
*سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی یہ بھی عشق بھری اَدا تھی کہ اگر کوئی دولت مند آپ کو گھر بُلاتا توفرماتے: میں اپنے کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دَر پر پڑا ہوں، میرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami