Share this link via
Personality Websites!
محفلِ میلاد ہوتی، جس میں * مَدَنی * تُرکی * پاکستانی * شَامی * مِصْری * اَفْرِیقی * سَوڈانی *اور دُنیا بھر سے آئے ہوئے زائِرِین شرکت کرتے تھے۔ ([1])
بعض دفعہ یُوں بھی ہوتا کہ جب کوئی زائِر مدینہ شریف چھوڑ کر واپس گھر کو جانے لگتا تو آ کر عرض کرتا: میں سلامِ وِدَاع کر آیا ہوں (یعنی میں رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں الوِداعی سلام پیش کر آیا ہوں)۔ سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اِصْلاح کرتے ہوئے فرماتے: ان سے وِدَاع ہو کر کہاں جاؤ گے؟ بارگاہِ رسالت میں یُوں عرض کیا کرو: اَلْاَمَانْ یَارَسُول َاللہ! اَلْحَفِیْظ یَارَسُول َاللہ! اَلمَدَد یَارَسُول َاللہ! اَلغِیَاث یَارَسُول َاللہ! ([2])
تجھ سے چھپاؤں مُنہ تو کروں کس کے سامنے
ایک مرتبہ فرمایا: مِرْزا(شکور بیگ حیدر آبادی)صاحب کہتے ہیں:
نہ کوئی عمل ہے سنانے کے قابِل نہ مُنہ ہے تمہارے دکھانے کے قابِل
مگر ہمارے اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
تجھ سے چُھپاؤں مُنہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے
یہ شعر پڑھ کر سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: ان کے دامنِ کرم میں چُھپ تو سکتے ہیں مگر ان سے منہ چُھپا کر کہاں جاسکتے ہیں؟اور کیسے چُھپا سکتے ہیں؟جب کہ آپ صَلَّی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami