Share this link via
Personality Websites!
حضرت اُمِّ ہانی رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں، ایک مرتبہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئی، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نےفرمایا:مَرْحَبًا بِاُمِّ ہَانِی یعنی اُمِّ ہانی کو خوش آمدید...!! ([1])
پیارے اسلامی بھائیو!یہ اِستقبال کے اچھے طریقے ہیں، آج کل ہمارے ہاں یہ اَنداز کم ہوتے جا رہے ہیں، آنے والوں کو اچھے اَنداز سے خُوش آمدید کہنا بھی کسی کسی کو آتا ہے *عمومًا لوگ بس یُونہی بغیر مسکراہٹ کے*بغیر کسی تَوَجُّہ کے سلام کر لیتے ہیں بلکہ اب سلام بھی کہاں*یُونہی ہاتھوں کی چند اُنگلیاں مِلا لی جاتی ہیں*Welcoming(یعنی آنے والے کا اِستقبال کرنا) بھی ایک پُورا موضوع ہے اور آج کل مُعَاشرے کو اس کی بہت ضرورت ہے، لوگوں کو اچھا اِستقبال کرنا بھی نہیں آ رہا ہوتا۔ یہ ہمیں سیکھنا چاہئے، جب بھی کوئی ہمارے پاس آئے*اچھے انداز میں *مسکرا کر*چہرے پر خُوشی کے آثار دِکھا کر *بہترین الفاظ کے ساتھ*آگے بڑھ کر اِستقبال کریں، یہ بھی ایک نیکی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے جُنُون کی حد تک عشق تھا بلکہ یہ کہنا بھی بالکل درست ہو گا کہ آپ فَنَا فِی الرَّسُول کے اعلیٰ منصب پر فائِز تھے*ذِکْرِ مصطفےٰ ہی آپ کا دِن رات کا مَشغلہ تھا*اکثر زیارت کے لئے آنے والے سےپوچھتے: آپ نعت شریف پڑھتے ہیں؟ اگر وہ ہاں کہتا تو اس سے نعت شریف سُنتے اور خُوب لُطف اُٹھاتے تھے*بہت مرتبہ نعتِ پاک سنتے سنتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے*سارا ہی سال روزانہ رات کو آپ کے آستانہ پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami