Share this link via
Personality Websites!
قبول ہو جائیں *ہو سکتا ہے: تِلاوت کام آجائے *ہو سکتا ہے: ہمدردی کام آ جائے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ جنہیں سیدُ الطّائفہ (یعنی ولیوں کے سردار) کہا جاتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے! آپ کے پاس نیکیوں کا کتنا ذخیرہ ہو گا۔ آپ کو وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: کیا گزری؟ فرمایا: باقی سب اپنی جگہ۔ البتہ! رات کو 2رکعت تہجد کام آئی، اس کے صدقے بخشش ہو گئی۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے ! اللہ پاک نہ جانے کس عَمَل پر راضِی ہو جائے، لہٰذا ہر قسم کی نیکیاں ہی اپنے اعمال نامے میں جمع کرتے رہنا چاہیے ۔
رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک دِن صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو اپنا خواب بیان کیا، یہ یاد رکھیے کہ انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنِّي رَاَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا
ترجمہ: رات میں نے عجیب خواب دیکھا۔
کیا خواب تھا؟ فرمایا:
رَاَيْتُ رَجُلًا مِّنْ اُمَّتِيْ قَدِ احْتَوَشَتْهُ مَلَائِكَةٌ، فَجَاءَهُ وُضُوْؤُهُ فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذٰلِكَ
ترجمہ: میں نے اپنا ایک اُمّتی دیکھا (عذاب کے) فرشتے اسے ڈرا رہے تھے، اتنے میں اس کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami