Share this link via
Personality Websites!
کا بہت اچھا ہوں۔ ارے بھائی! زبان کیوں کڑوی رکھی ہوئی ہے، اسے بھی میٹھا کر لیجیے! *کتنے لوگ کہتے ہیں: مُعَاف کیجیےگا میں غُصّے کا ذرا تیز ہوں۔ تَو بھائی! آپ کیوں تیز ہیں، اپنے غُصّے کو کنٹرول کیوں نہیں کرتے *کئی لوگ کہتے ہیں: باقی تَو سب ٹھیک ہے، بَس میرے اندر استقامت نہیں ہے۔ تَو بھائی! استقامت بھی اپنائیے!
غرض؛ اچھائیوں کے مُعَاملے میں یہ کوشش رہنی چاہیے کہ ہم ادھورے نہ رہیں، ہر اچھائی سے کچھ نہ کچھ حصّہ ہمیں لے ہی لینا چاہیے ۔
مارٹ سسٹم اور سیکھنے کی ایک بات
آپ نے دیکھا ہو گا: پرچُون کی دُکان سے دوچار گاہَک خالی واپس چلے جائیں، مثلاً؛ گاہَک نے کہا: فُلاں چیز دے دیجیے! دُکان پر وہ چیز موجود نہ ہو تو دُکاندار جلدی سے اپنی ڈائری پر وہ چیز نَوٹ کر لیتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے تاکہ وہ چیز منگوا لے اور آیندہ گاہَک خالی ہاتھ نہ جائے۔ بلکہ آج کل تَو مارٹ سسٹم(Mart System) آگیا ہے۔ عام مارکیٹ میں کریانے کی دُکان الگ ہوتی ہے، کپڑے کی الگ، کراکری کی الگ، جس نے کریانے کا سامان لینا ہے، وہ کپڑے والے کے پاس نہیں جائے گا، جس نے کپڑا لینا ہے، وہ کراکری والے کے پاس نہیں جائے گا۔ لوگوں نے اس سے سبق سیکھا اور مارٹ بنا دئیے! ساری چیزیں ایک ہی چھت کے نیچے رکھ لیں، جس نے جَو لینا ہے، اسی ایک مارٹ پر آئے، سب کچھ ملے گا۔ یہ اسی لیے ہے نا کہ کوئی بھی گاہَک مِسْ(Miss) نہ ہو۔
تَو ہم آخرت کے مُعَاملے میں بھی یہی انداز کیوں نہ اپنائیں*آخرت کے دن نہ جانے کونسا سودا کام آجائے *ہو سکتا ہے نمازکے صدقے بخشش ہو *ممکن ہے: روزے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami