Share this link via
Personality Websites!
آپ دیکھیے ! ہمارے ہاں ہر بندے کے اندر ہر خُوبی ہو، ایسا نہیں ہوتا *کسی کے پاس عِلْم ہوتا ہے، عِبَادت کا ذوق نہیں ہوتا *کوئی عِبَادت گزار ہوتا ہے، صاحِبِ عِلْم نہیں ہوتا *کسی کے اندر نَرْمی تَو ہوتی ہے مگر اُسے ملنے جلنے کا ڈھنگ نہیں آتا *کسی کو ملنے جلنے کا ڈھنگ آتا ہے مگر ہمدردی نہیں ہوتی۔ یُوں ہر بندے کی الگ الگ خُوبیاں ہوتی ہیں، اگر لاکھ بندوں کی لاکھوں خُوبیوں کو ایک ہی بندے کے اندر جمع کر دیا جائے تو ہم کہہ سکیں گے کہ یہ اکیلا ہی بندہ لاکھوں کے برابر ہے۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی شان و عظمت کو ہم دیکھتے ہیں تو چُونکہ آپ اکیلے ہی لاکھوں خُوبیوں کے مالِک تھے *عِلْم میں بھی آپ کامِل و اکمل ہیں *عبادت و ریاضت میں بھی آپ کامِل و اکمل ہیں *حِلْم آپ کا بےمثال ہے *محبّتِ اِلٰہی آپ کی بےمثال ہے *اطاعت و فرمانبرداری میں آپ بےمثال ہیں، یُوں لاکھوں خُوبیاں آپ کے اندر جمع ہو گئیں ہیں، لہٰذا فرمایا:
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّة (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے ہمیں یہ سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی خُوبیاں اپنے اندر اُجاگر کرنی چاہیے ۔ ظاہِر ہے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے ہم دَرْجہ تَو ہم کسی صُورت ہو ہی نہیں سکتے ہیں، البتہ! آپ کا فیضان پا کر آپ کے نقشِ سیرت پر تَو چل ہی سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں *کتنے لوگ کہتے سُنائی دیتے ہیں: میری زبان تھوڑی کڑوِی ہے مگر دِل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami