Share this link via
Personality Websites!
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے 4اَوْصاف کی تشریح
پیارے اسلامی بھائیو! اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے 4اعلیٰ اَوْصاف اِرْشاد ہوئے ہیں۔ آج ہم نے انہی 4اَوْصاف کو سمجھنا اور ان سے سبق سیکھنا ہے۔
(1):ابراہیم علیہ السَّلام اُمّت ہیں
پہلا وَصْف اِرْشاد ہوا:
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّة (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک۔
یہ بڑا کمال کا وَصْف ہے، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے لیے لفظ اُمّۃ اِرْشاد ہوا۔ لغت کے حساب سے دیکھیں تو لفظِ اُمَّت ایک شخص کے لیے نہیں بولا جاتا، دیکھیے ! میں ایک فرد ہوں تو میں پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی اُمّت نہیں ہوں بلکہ اُمّتی ہوں۔ پتا چلا؛ لفظِ اُمّت ایک سے زیادہ افراد پر بولا جائے گا۔ سُوال یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو اُمَّت کیوں کہا گیا؟ عُلَمائے کرام نے اس کے 2مطلب بتائے ہیں:
پہلا مطلب اس کا یہ ہے کہ
اَنَّهُ كَانَ وَحْدَهُ اُمَّةً مِّنَ الْأُمَمِ لِكَمَالِهٖ فِي صِفَاتِ الْخَيْرِ
یعنی آپ علیہ السَّلام اتنے اعلیٰ اَوْصاف و کمالات کے مالِک ہیں کہ گویا آپ ایک فرد نہیں بلکہ اکیلے ہی ہزاروں افراد سے اعلیٰ ہیں۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami