Share this link via
Personality Websites!
ہم نے شروع میں پارہ: 14، سُورۂ نحل کی آیت: 120 سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اس مقام کی 3آیات ہیں، ان تینوں میں آپ علیہ السَّلام کا ذِکْر خَیر ہے، اِرْشاد ہوتا ہے:
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًاؕ-وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ(۱۲۰) شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖؕ-
(پارہ:14، سورۂ نحل:120و121)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک (یا) ایک پیشوا ، اللہ کے فرمانبردار اور ہر باطِل سے جُدا تھے اور وہ مُشْرِکْ نہ تھے، اس کے احسانات پر شکر کرنے والے۔
یہ آپ علیہ السَّلام کے 4 اعلیٰ اَوْصاف بیان ہوئے، اس کے بعد آپ پر ہونے والے اِنْعاماتِ اِلٰہیہ کا بیان ہوا، فرمایا:
اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۱۲۱) وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ(۱۲۲)
(پارہ:14، سورۂ نحل:121و122)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں قرب والے بندوں میں سے ہوگا۔
ان آیات کا خُلاصہ یہ ہے کہ (1):حضرت ابراہیم علیہ السَّلام خُود اپنی ذات میں ایک پُوری اُمّت ہیں (2):اللہ پاک کے بہت فرمانبردار ہیں (3):ہر باطِل سے جُدا رہنے والے ہیں (4):نعمتوں کا خوب شُکر کرنے والے ہیں۔ چونکہ آپ ایسی اعلیٰ شانوں والے ہیں تو اللہ پاک نے آپ کو چُن لیا، اپنا مقرَّب اور برگزیدہ بنایا، سیدھے رستے کا نشان اور حق کا معیار بنایا، دُنیا میں آپ کو بھلائیاں عطا فرمائیں اور آخرت میں نیکوں اور بلند شانوں والوں میں کر دیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami