Share this link via
Personality Websites!
یعنی آپ نعمتوں کا خُوب شکر ادا کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی عادتِ کریمہ تھی کہ مہمانوں کی خُوب مہمان نوازی فرماتے تھے، آپ کو اَبُو الضَّیْفَان کہا جاتا ہے۔([1]) آپ کی عادت تھی کہ کوئی مہمان نہ آتا تو کئی کئی میل کا سَفَر کر کے مہمان ڈھونڈتے، اسے گھر لا کر کھانا کھلایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مہمان نہ آئے، آپ مہمانوں کی تلاش میں نکلے۔
اِدھر اللہ پاک کے کچھ فرشتے انسانی شکل میں اکھٹے ہو کر آ رہے تھے کہ دیکھیں اللہ پاک نے جنہیں خلیل بنایا ہے، وہ کس شان والے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی ان سے ملاقات ہو گئی، اتنے سارے بظاہِر انسان دیکھ کر آپ خُوش ہو گئے کہ آج تو بہت مہمان مِل گئے ہیں، آج سبھی کو کھانا کھلاؤں گا۔ آپ نے ان سب کو دعوت دی، اب وہ فرشتے جو انسانی شکل میں تھے، انہوں نے یُوں ظاہِر کیا کہ جیسے انہیں کوڑھ کا مرض ہے، کہنے لگے: اے ابراہیم! آپ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھ پائیں گے کیونکہ ہمیں تَو کوڑھ کا مرض ہے (اور کوڑھ کے مریضوں سے عموماً لوگ نفرت کیا کرتے ہیں، ان کے پاس نہیں بیٹھتے)۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے فرمایا:
اَلْآنَ وَجَبَتْ مَؤَاكِلْتُكُمْ، شُكْرًا لِلّٰهِ عَلٰی أَنَّهُ عَافَانِيْ وَابْتَلَاكُمْ
ترجمہ: یعنی ایسی بات ہے، پِھر تَو میں ضرور تمہارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤں گا، اس شکرانے میں کہ اللہ پاک نے مجھے اس مرض سے عافیت بخشی ہوئی ہے ۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا شکر کا انداز ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی شکر کرنے والا بندہ بنائے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami