Share this link via
Personality Websites!
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًاؕ-وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ(۱۲۰) (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالِک (یا) ایک پیشوا ، اللہ کے فرمانبردار اَور ہر باطِل سے جُدا تھے اور وہ مُشْرِکْ نہ تھے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ابھی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی یادَوں سے بھرپُور مقدَّس اَیّام جاری ہیں، حج کے مہینے ہیں، کعبہ شریف، منٰی، عرفات، صَفَا و مروَہ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی یادَیں ہیں، کعبہ شریف آپ نے تعمیر فرمایا، صَفَا و مروَہ کو آپ کی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہ رحمۃُ اللہ علیہا کی نسبت سے بَرَکت مِلی، جمرات جہاں حاجی شیطان کو کنکر مارتے ہیں، یہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام ہی کی سُنّت ہے، پِھر قربانی کے اَیَّام بھی قریب ہیں، پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ
ترجمہ: (یعنی قربانی) تمہارے والِد حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سُنّت ہے۔([1])
غرض؛ اِن مبارَک اور مقدَّس اَیَّام میں حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی یادَیں ہی یادَیں ہیں۔ اسی مُنَاسبت سے آج ہم حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا ذِکْرِ خیر کرنے سننے کی سَعَادت حاصِل کریں گے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami