Share this link via
Personality Websites!
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے مزید اَوْصاف اِرْشاد ہوئے، فرمایا:
حَنِیْفًاؕ-وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ(۱۲۰) (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہر باطِل سے جُدا تھے اور وہ مُشْرِک نہ تھے۔
یہاں آپ علیہ السَّلام کے پیارا وَصْف بیان ہوا ہے: حَنِیْف یعنی ہر باطِل سے دُور رہنے والے۔([1]) یہ بھی بہت اعلیٰ بات ہے۔
ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پاکیزہ سیرت ہمارے لیے زندگی کے ہر میدان میں، ہر ہر لمحے میں، ہر ہر گھڑی، ہر ہر کیفیت، ہر ہر حالت میں بہترین نمونہ ہے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمکی سیرت پاک کو قرآنِ کریم نے ہمارے لیے اُسْوَۂ حَسَنَہ فرمایا ہے یونہی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے مُتَعَلِّق بھی فرمایا:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ (پارہ:28، سورۂ ممتحنہ:4)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی۔
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سیرتِ پاک ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ کس معاملے میں؟ فرمایا:
اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ٘- (پارہ:28، سورۂ ممتحنہ:4)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک ہم تم سے اور ان سے بیزار ہیں جنہیں تم اللہ کے سِوا پُوجتے ہو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami