Share this link via
Personality Websites!
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی شانِ اطاعت و فرمانبرداری کی تو کیا ہی بات ہے...!! آپ کی عمر مبارَک 7 سال تھی، جب اللہ پاک نے فرمایا:
اَسْلِمْۙ- (پارہ:1، سورۂ بقرہ:131)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: فرمانبرداری کر۔
آپ نے عرض کیا:
اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۳۱) (پارہ:1، سورۂ بقرہ:131)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: میں نے فرمانبرداری کی اس کی جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
پھر حضرت ابراہیم علیہ السَّلام سارِی زِندگی اس پر قائِم رہے، اس کے لیے آپ کو بڑی بڑی مشکلات سے بھی گزرنا پڑا مگر آپ علیہ السَّلام نے اللہ پاک کی فرمانبرداری نہیں چھوڑی *نمرود بدنصیب نے آپ علیہ السَّلام کو مَعَاذَ اللہ! آگ میں ڈال دینے کی ناپاک جسارت بھی کی، آپ فرمانبرداری پر قائِم رہے *آپ علیہ السَّلام نے اپنا گھر بار چھوڑا اَور راہِ خُدا میں ہجرت کی مگر اطاعت و فرمانبرداری پر قائِم رہے *آپ کو بڑھاپے کی عمر میں بیٹا عطا ہوا، یعنی حضرت اسماعیل علیہ السَّلام ۔ حکم ہوا: اے ابراہیم علیہ السَّلام ! اپنے بیٹے اور ان کی والِدہ کو مکہ مُکَرِّمَہ چھوڑ آئیے۔ مکہ مکرمہ اس وقت بالکل بےآباد تھا، یہاں کوئی نہیں رہتا تھا، یہاں زِندگی گزارنے کے اسباب بھی نہیں تھے، اس وقت بھی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے کوئی عُذْر نہیں کیا بلکہ سَرِ تسلیم خم کیا اور اپنے شہزادے اور زوجہ محترمہ کو مکہ مُکَرِّمَہ چھوڑ آئے *حکم ہوا: اے ابراہیم! اپنے بیٹے کو قربان کیجیے ، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اس حکم پر بھی سَرِ تسلیم خَم کیا اور بیٹے کی گردن پر چھُری رکھ لی۔([1])
کاش! ہمیں بھی اللہ پاک کا فرمانبردار، نیک اور عبادت گزار بندہ بننا نصیب ہو جائے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami