Share this link via
Personality Websites!
خیال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، حوصلہ افزائی بھی کر دیتے ہیں مگر اَفسوس! نیکی کی دَعوت دینے میں عموماً کئی مُسلمان شرماتے ہیں۔
ایک روز سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: *اُس وَقت تُمہارا کیا حال ہو گا؟ جب تُم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دو، صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عَرْض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا ایسا ہو گا؟ فرمایا: ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس سے زیادہ برا حال ہو گا *فرمایا:اُس وَقت تُمہارا کیا حال ہو گا؟ تُم نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی سمجھو گے! صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عَرْض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا ایسا ہو گا؟ فرمایا: ہاں! اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اِس سے بھی زَیادہ بُرا حال ہو گا۔ اللہ پاک فرماتا ہے: مُجھے اپنی ذات کی قسم! میں (اُس وقت) ان پر ایسا فِتْنَہ مُقَرَّر کروں گا کہ اس میں سمجھدار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے۔([1])
مسلماں آہ! غافِل ہو گئے نیکی کی دعوت سے بڑھا جاتا ہے ہائے! زورِ باطِل یارسولَ اللہ!
اللہ پاک ہمیں نیکی کی دعوت دینے والا، بُرائیوں سے منع کرنے والا بننے کی توفیق نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا دوسرا وَصْف اِرْشاد ہوا:
قَانِتًا لِّلّٰهِ (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ کے فرمانبردار۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami