Share this link via
Personality Websites!
فرمائے گا۔ عورت بولی: کیوں نہیں، بتائیے! آپ نے فرمایا: سچّے دِل سے کہو: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
عورت نے کلمہ طیبہ پڑھا تو اس کے ہاتھ سے مجسمہ چُھوٹ کر گِر گیا۔ یہ دیکھ کر اس عورت کا دِل روشن ہو گیا اور اس نے اپنے ہاتھوں سے اس مجسمے کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے مَعْلُوم ہوا؛ ہمیں بھی نیکی کی دعوت دینے، بُرائیوں سے منع کرنے کی عادَت بنانی چاہیے ۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(پارہ :10 ،سورۂ توبہ:1 7)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
یعنی مُسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، اللہ پاک کی رضا کے لیے محبّت رکھتے ہیں اور مُسلمانوں کایہ اعلیٰ وَصْف ہے کہ یہ آپس میں ایک دُوسرے کو نیکی کی دَعوت دَیْتے اور بُرائی سے مَنع کرتے ہیں۔
آہ! اَفسوس...!! اب ہمارے حالات بہت بُرے ہو چُکے ہیں، لوگ گُنَاہ کرنے اور گُنَاہوں کی ترغیب دِلانے میں بالکل شرم محسوس نہیں کرتے، بےحیائی کے کاموں کو فیشن (Fashion) اور جِدَّت کا نام دے کر اسے اپنانے کےلیے بےدھڑک ایک دوسرے کو آمادہ کیا جاتا ہے، یہاں تک والِدین اپنی اولاد کو دِین سے دُور، ماڈَرْن(Modern) اور آزاد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami