Share this link via
Personality Websites!
بیاں میں نکتۂ تَوحِید بھی آ تَو سکتا ہے تِرے دِماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہئے!([1])
اتنے آسان انداز سے مسئلہ تَوحِید سمجھایا مگر قوم حضرت ابراہیم علیہ السَّلام سے جھگڑا کرنے لگی کیونکہ اُن کے دِل و دِماغ میں شِرْک رَچ بَس چُکا تھا، انہیں یہ بات سمجھ ہی نہ آ سکی۔
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا چچا آزَرْ مجسمے بنایا کرتا تھا، آپ کی عادَتِ کریمہ تھی کہ وہ مجسمے لیتے، ان کو رَسِّی ڈالتے اور گلیوں میں گھسیٹتے پِھرتے اور آواز لگایا کرتے تھے:
مَنْ يَّشْتَرِى يَضُرُّهٗ وَلَا يَنْفَعُهٗ
ترجمہ: کون ایسی چیز خریدے گا جو نہ فائدہ دیتی ہے، نہ نقصان۔
ایک مرتبہ آپ یُونہی صدا لگا رہے تھے کہ ایک خاتُون ملی، کہنے لگی: اے ابراہیم! میں نے ایک خُدا خریدنا ہے۔
اللہ اکبر! عقل دیکھیے لوگوں کی...! کیا خُدا بھی خریدا جا سکتا ہے؟ خیر! آئی بھی تَو حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے پاس تھی، آپ نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسا مجسمہ دُوں گا، جس کے ایک حصّے کے ذریعے تم پانی گرم کر سکتی ہو، ایک حصّے کے ذریعے کھانا پکا سکتی ہو اور ایک حصّے کے ذریعے روٹیاں پکا سکتی ہو۔
آپ کا ایسا حکمت بھرا کلام سُن کر عورت سوچ میں پَڑ گئی کہ بات تَو سچّی ہے، لکڑی کا بنا ہوا مجسمہ ہے، اسے جلا کر یہی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ابھی سوچ ہی میں تھی کہ آپ نے فرمایا: ایسے خُدا کا پتا بتاؤں، اسے پُکارو تو تمہاری دُعا سنے گا، مدد چاہو تو غیب سے تمہاری مدد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami