Share this link via
Personality Websites!
نہیں کرتا۔
یعنی جو ڈُوب جائے، وہ بھلا خُدا ہونے کا حقدار کیسے ہو سکتا ہے، لہٰذا یہ ستارہ ہر گز خُدا نہیں ہو سکتا۔
چاند نکلا تو فرمایا:
هٰذَا رَبِّیْۚ- (پارہ:7، سورۂ انعام:77)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: کیا اسے میرا ربّ کہتے ہو؟
جب چاند ڈُوب گیا تو فرمایا:
لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ(۷۷) (پارہ:7، سورۂ انعام:77)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اگر مجھے میرے ربّ نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوتا۔
پِھر صبح کو جب سُورج نکلا تو فرمایا:
هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُۚ- (پارہ:7، سورۂ انعام:78)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: کیا اسے میرا ربّ کہتے ہو؟یہ تو اِن سب سے بڑا ہے۔
جب سُورج بھی ڈُوب گیا تو فرمایا:
یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ(۷۸) (پارہ:7، سورۂ انعام:78)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو۔
سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے ! کتنے خوبصُورت انداز میں، آسان آسان اور سمجھ میں آنے والی دلیلوں کے ساتھ لوگوں کو مسئلہ تَوحِید سمجھا دیا۔ مگر افسوس!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami