Share this link via
Personality Websites!
اور معنیٰ بیان کیا، فرماتے ہیں:
اَلَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ
ترجمہ: (اُمَّۃ یعنی لفظِ اُمّت جب ایک شخص پر بولا جائے تو ) ایسے شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھانے والا ہو۔([1])
اس معنیٰ کے مُطَابِق آیت کا مطلب بنے گا: حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نیکی کی دعوت دینے والے، بھلائی کی باتیں بتانے والے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السَّلام اور نیکی کی دعوت
اللہ اکبر! حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ بھی کیسا کمال تھا...!! آپ بالکل تَنِ تنہا ہیں، دوسری طرف پُوری قوم ہے، نَمْرُوْد ہے، اس کا تاج و تخت ہے، پُوری فوج ہے، ان حالات میں آپ علیہ السَّلام نے تَنِ تنہا پُوری قوم کو نیکی کی دعوت اِرْشاد فرمائی۔
پِھر سمجھانے کا انداز دیکھیے کیسا نِرالا تھا...!! لوگ چُونکہ شِرْک میں مُبتَلا تھے، کوئی سُورج کو خُدا بنائے بیٹھا تھا، کوئی چاند کی پُوجا میں مَصْروف تھا، کوئی ستاروں کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ آپ علیہ السَّلام نے جب یہ حالت دیکھی تو قوم کو سمجھایا، جب وہ ستارہ طُلُوع ہوا، جس کی قوم پُوجا کرتی تھی، آپ نے فرمایا:
هٰذَا رَبِّیْۚ- (پارہ:7، سورۂ انعام:76)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: کیا اسے میرا ربّ ٹھہراتے ہو؟
جب ستارہ ڈُوب گیا تو فرمایا:
لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ(۷۶) (پارہ:7، سورۂ انعام:76)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: میں ڈوبنے والوں کو پسند
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami