Share this link via
Personality Websites!
وَلَوْ اَنْ تَلْقَى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
ترجمہ: خواہ اپنے مسلمان بھائی سے خُوش چہرے کے ساتھ ملنا ہی ہو۔ ([1])
یعنی اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا، جسے عموماً زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، فرمایا: یہ بھی نیکی ہے، اسے بھی کم مت سمجھو...!! ہمارے ہاں عموماً مسجدوں میں نماز کے بعد لوگ آپس میں سلام کرتے، ہاتھ ملاتے ہیں، خصوصاً امام صاحِب کے ساتھ ہاتھ ملایا جاتاہے، بعض لوگ جلدی جلدی اُٹھ کر نکل جاتے ہیں، مسلمانوں کے ساتھ سلام نہیں لیتے۔ بھائی جان! موقع جو مل رہا ہے، کیوں نیکی چھوڑتے ہیں۔ سلام لے لیجیے! مسکرا کر ملیے ، یہ بھی نیکی ہے، کیا خبر! یہی نیکی قبول ہو جائے اور بخشش کا ذریعہ بن جائے۔
بہر حال! حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا وَصْف ِ پاک ہے:
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّة (پارہ:14، سورۂ نحل:120)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک۔
آپ ہر اچھائیوں اور خُوبیوں میں کمال رکھتے تھے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہر نیکی، ہر اچھائی سے اپنا حصّہ لیں، اعمال نامے میں ہر قسم کی نیکیاں جمع کرتے رہیں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! روزِ قیامت کام آئیں گی۔
کچھ نیکیاں کمالے، جلد آخرت بنا لے کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندگی کا([2])
صحابئ رسول ہیں: حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ ۔ آپ نے لفظِ اُمَّت کا ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami