Share this link via
Personality Websites!
خیرات نے نجات دِلا دی *کسی کو خوفِ خُدا سے رونا کام آ گیا۔ اب آپ سوچئے! اگر ہمارے پاس یہ ساری ہی نیکیاں موجُود ہوں، یہ سارے ہی نیک اَعْمال کیے ہوں، کوئی نہ کوئی تَو قبول ہو ہی جائے گا، کسی نہ کسی نیکی کے سبب تَو بخشش ہو ہی جائے گی۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جو بھی نیکی ہو سکے، بَس اعمال نامے میں جمع کرتے چلے جائیں۔
حدیثِ پاک میں ہے:
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا
ترجمہ: کسی نیکی کو کم مت سمجھو...!!
بعض لوگوں کا یہ ذِہن بنتا ہے بلکہ شیطان بنا دیتا ہے کہ *نماز پڑھ لی نا، کافِی ہے، اب تِلاوت نہ بھی کی تَو خیر ہے *جمعہ پڑھ تَو لیا، آخر میں پڑھے جانے والے صلوٰۃ و سلام میں شرکت نہ بھی ہوئی تَو خیر ہے *نماز، روزہ تَو کر ہی لیتا ہوں، اب دِینی اِجْتماعات میں شرکت نہ بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں *خُود تَو نیکیاں کرتا ہی ہوں نا، دوسروں کو نیکی کی دعوت نہ بھی دِی تَو خیر ہے *قافلے میں سَفَر کی دعوت دی جائے تو بعض دفعہ جواب ملتا ہے، بَس! مولوی صاحب! نماز روزہ کر لیتے ہیں، اللہ پاک یہی قبول فرما لے تَو کافی ہے۔
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم فرما رہے ہیں:
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا
ترجمہ: کسی نیکی کو کم مت سمجھو...!! (ہر طرح کی نیکیوں سے حصّہ لیتے چلے جاؤ!)
آگے مثال دیکھیے ! کیسی پیاری دی، فرمایا:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami