Share this link via
Personality Websites!
پاک حَسَنَہ یعنی خوبصورت ، عمدہ اور بہترین ہے۔
پتا چلا؛ اس مقام پر رَبِّ کریم نے مدینہ طَیبہ کو حَسَنَہ کا خِطاب دیا ہے، اس لفظ کا معنیٰ سمجھیے! امام راغب اَصْفَہانی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
کُلُّ مُبْہَجٍ مَّرْغُوْبٍ فِیْہِ
مفہوم: ہر وہ چیز جسے دیکھ کر تازگی ملے، جس میں رغبت حاصِل ہو، اسے حَسَن (اگر مؤنث ہو تَو حَسَنَہ) کہتے ہیں۔
*جسے دیکھ کر چہرہ ترو تازہ ہو جائے، اسے حَسینِ حِسِّی کہتے ہیں *جسے دیکھ کر عقل ترو تازہ ہو جائے، اسے حَسینِ عقلی کہتے ہیں *جسے دیکھ کر رُوح تر و تازہ ہو جائے، اسے حَسینِ ہَوائی (حسین قلبی یا رُوحی ) کہتے ہیں۔([1])عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: آیتِ کریمہ میں مدینہ شریف کو جَو حَسَنَہ فرمایا گیا ہے، اس سے صِرْف ظاہِری حُسْن مراد نہیں، باطنی حُسْن بھی مراد ہے۔([2])اب آیتِ کریمہ کا مطلب یہ بنے گا: جنہوں نے ہجرت کی، انہیں گھر بار چھوڑنے کے بدلے ایسا حَسِین تَرِین مقام اور ٹھکانا عطا کیا جائے گا، جسے دیکھ کر ان کے چہرے بھی تر و تازہ ہو جایا کریں گے، ان کے دِل اور دماغ بھی تر و تازہ ہو جایا کریں گے۔
صحابئ رسول حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی، جب سَفَر سے واپس مدینہ مُنَوّرَہ تشریف لاتے تَو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami