Share this link via
Personality Websites!
تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔
عُلَما فرماتے ہیں: اس آیت میں اَرْضُ اللہ سے مراد مدینۂ پاک ہے۔([1]) مطلب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد جو لوگ مکّہ پاک ہی میں رہ گئے تھے، فرشتے موت کے وقت اُنہیں کہتے ہیں: مدینۂ پاک جو اللہ پاک کی خاص زمین ہے، کیا وہ وَسِیع نہیں تھی...؟ بالکل تھی تَو تُم وہاں کیوں نہیں گئے، تم نے ہجرت کیوں نہیں کی...؟
یہاں سے مدینے کی 2 شانیں مَعْلُوم ہوئیں: (1):مدینہ اللہ پاک کی خاصُ الخاص زمین ہے (2):دوسری یہ کہ مدینہ بہت وُسْعت والا شہر ہے، دُنیا بھر کے غریبوں کو یہیں پناہ ملتی ہے۔
مدینہ کے خطّے خُدا تجھ کو رکھے غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے([2])
ایک مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ- (پارہ14،سورۂ نحل:41)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا تو ہم ضرور انہیں دُنیا میں اچھی جگہ دیں گے۔
اللہ پاک نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سے وَعْدَہ فرمایا کہ اُنہیں دُنیا میں رہنے کے لیے حَسَنَہ (یعنی اچھی جگہ) عطا کی جائے گی اور پھر یہ وَعْدَہ پُورا کیسے ہوا...؟ سب جانتے ہیں کہ اللہ پاک نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو مدینۂ پاک میں رہنا نصیب فرمایا، مَعْلُوم ہوا مدینۂ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami