Share this link via
Personality Websites!
جائیں گی، قدرتی مناظِر بھی ایک سے ایک حَسِین نظر آئیں گے، اُونچے اُونچے پہاڑ، جھلیں بھی مِل جائیں گی مگر مدینہ وہ شہر ہے جہاں ہر وقت امن و سکون، راحت و آرام اور رحمت و رِضْوان کی بارش برستی رہتی ہے۔
قرآنِ کریم اور شانِ مدینۂ پاک
مدینۂ پاک کی شان و عظمت پر چند آیاتِ کریمہ سنیے!
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِم (پارہ:28، سورۂ حشر:9)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور وہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کو اور ایمان کو ٹھکانہ بنا لیا۔
اس آیت کے تحت عَلَّامہ بیضاوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت میں اللہ پاک نے مدینۂ پاک کو اِیْمان (یا دارُ الْاِیْمَان) فرمایا، اِس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان مدینۂ پاک ہی سے پھیلا ہے اور دوبارہ اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔([1]) حدیثِ پاک میں ہے:اَلْمَدِیْنَۃُ دَارُ الْاِیْمَان مدینہ ایمان کا گھر ہے۔ ([2])
ایمان ملا ان کے صدقے، قرآن ملا ان کے صدقے
رحمٰن ملا ان کے صدقے، وہ کیا ہے جو ہم نے پایا نہیں
اسی طرح پارہ:5، سورۂ نِسَآء، آیت:97 میں فرشتوں کی زبانی ارشاد ہوا:
اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ- (پارہ5،سورۂ نساء:97)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami