Share this link via
Personality Websites!
رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: عائشہ! کیا ہُوا ہے؟ کیا دیکھ رہی ہو؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! باہَر تَو بارش برس رہی ہے مگر آپ کا لباس، عمامہ، بال مبارَک سب کچھ ہی خُشْک ہے، آپ پر ایک بُوند بھی پانی کی نہیں گِری؟ فرمایا: عائشہ! تم نے سر پر کیا اَوڑھا ہے؟ عرض کیا: یہ آپ کی چادر مُبارَک ہے، جلدی میں یہی ہاتھ آئی، میں نے یہی اَوڑھ لی۔ فرمایا: اسے اُتارو! سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہ عنہا نے چادر سَر سے اُتاری تو دیکھا وہاں کوئی بارش نہیں تھی، بہت حیرانی ہوئی، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ رحمتِ اِلٰہیہ کی بارِش ہے، جو یہاں ہر وقت ہی برستی رہتی ہے۔ تم نے میری چادَر پہنی تو تمہاری نگاہیں روشن ہو گئیں اور تم نے اس بارش کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔([1])
ذرّے ذرّے پہ چھایا ہوا نُور ہے میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
نُور سے سب فَضا اِس کی معمُور ہے میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
ہر طرف رحمتوں کی ہے چھائی گھٹا مَہکی مَہکی ہے کیا خُوب مَدنی فَضا
ذرّے ذرّے پہ قرباں یہاں طُور ہے میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! یہ شہرِ مدینہ ہے، شہر تَو دُنیا میں بہت ہیں، ایک سے ایک حَسِین بھی ہیں مگر ایسا حُسْن جو مدینے میں ہے، کہیں نہیں ملے گا، آپ کو دُنیا کے شہروں میں بڑے بڑے پارک بھی مِل جائیں گے، بڑی بڑی آبشاریں بھی مِل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami