Share this link via
Personality Websites!
صاحِب، فُلاں مفتی صاحِب نے پڑھایا تھا، اتنے لوگ جنازے میں شریک ہوئے تھے۔بلکہ اس سے بھی آگے کی بات عرض کروں؛ اگر کوئی مدینۂ پاک میں وفات پا جائے تَو اس کی وفات کی خبر سُن کر عموماً لوگ اِنَّا لِلّٰہ نہیں پڑھتے، بےساختہ زبان سے سُبْحٰنَ اللہ نکلتا ہے کہ واہ...!! کیا قسمت پائی ہے۔
آپ صحابئ رسول رَضِیَ اللہ عنہ کی قسمت دیکھیے...!! ان کا انتقال تَو مدینۂ پاک میں ہُوا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ نصیب مِلا کہ اُن کا جنازہ رسولوں کے سردار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خُود پڑھا رہے ہیں۔
کیوں نہ ہو رُتبہ بڑا اصحاب واہل بیت کا ہے خدائے مصطَفٰی، اصحاب واہلِ بیت کا
آل و اصحاب نبی سب بادشہ ہیں بادشاہ میں فقط ادنیٰ گدا اصحاب و اہل بیت کا([1])
خیر! واقعہ آگے سنیے! نبئ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تَدْفِین سے فارِغ ہو کر گھر واپس تشریف لائے، مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا گھر پر تھیں، آپ نے جلدی سے کوئی کپڑا اُٹھایا، سر پر اَوڑھا اور پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے استقبال کے لیے صحن میں آگئیں۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تَو پہلے بھی گھر تشریف لایا ہی کرتے تھے، آج بھی تشریف لائے مگر آج عجیب مُعَاملہ ہوا، سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہ عنہا نے جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دیکھا تو آگے بڑھیں، چہرے پر حیرانی کے آثار تھے، کبھی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے عِمَامہ شریف پر ہاتھ لگاتی ہیں، کبھی مقدَّس زُلْفَوں کو چھوتی ہیں، پِھر قمیض مبارَک کو پکڑا، مقدَّس ہاتھوں کو ہاتھ میں لِیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami