Share this link via
Personality Websites!
دوسری وَجَہ عُلَمائے کرام نے لکھی کہ شہر آبادی سے ہوتے ہیں، حقیقت میں آباد صِرْف و صِرْف مدینہ ہی ہے، باقی شہروں کی آبادی اسی مدینے اور والئ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا صدقہ ہے۔ (*یہی وہ مبارَک شہر ہے جو سب شہروں کا سردار ہے *یہیں کی ہوائیں، سب ہواؤں سے پاکیزہ ہیں*یہیں کے نُور کی کِرنَیں سب شہروں کو روشن کر رہی ہیں۔ )اِس لیے اسے مدینہ (یعنی شہر) کہا جاتا ہے۔ ([1])
پہاڑوں میں بھی حُسْن، کانٹے بھی دلکش بہاروں نے کیسا نکھارا مدینہ
ہے شاہ و گَدَا، مُفْلِس و اَغْنِیا کا بِلا رَیْب سب کا گزارا مدینہ
اُسے سیرِ گلشن سے کیا ہو سروکار کِیا جس نے تیرا نظارہ مدینہ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
مولانا رُوْم رحمۃُ اللہ علیہ جو بہت بڑے صُوفی بزرگ ہیں، آپ نے بہت پیارا واقعہ لکھا، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ کا ذِکْر ہے، مدینۂ پاک میں ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، رسولوں کے تاجدار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے نمازِ جنازہ پڑھائی، بقیعِ پاک میں اُنہیں دَفْن کیا، پِھر واپس گھر تشریف لائے۔
ایک تَو یہ بھی کیسی خُوش نصیبی کی بات ہے، آج جب کوئی مرتَا ہے تو* کسی کا جنازہ محلے کے امام صاحِب پڑھاتے ہیں*کسی کا جنازہ شہر کے بڑے عالِم صاحِب پڑھاتے ہیں *بعض بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں: میرے بھائی کا جنازہ فُلاں بن فُلاں علَّامہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami