Share this link via
Personality Websites!
سہولیات ہوں، سکول، ہسپتال، بڑے تعلیمی ادارے وغیرہ ہوں، اُسے شہر کہتے ہیں تَو کوئی بھی شہر ہو، عربی میں اسے مَدِیْنَہ کہا جاتا ہے۔ حضرت صالِح علیہ السَّلام کی اونٹنی کی ٹانگیں جن بدنصیبوں نے کاٹیں ان کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا:
وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۴۸) (پارہ:19، سورۂ نمل:48)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔
یعنی جن بدنصیبوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹیں وہ قومِ ثمود کے شہر حِجْر کے رہنے والے تھے۔
یہاں اس شہر کو مَدِیْنَہ کہا گیا ہے۔ پتا چلا؛ لفظِ مَدِیْنَہ کا لفظی معنیٰ شہر ہے۔ اب ذرا غور فرمائیے! شہر تَو دُنیا میں بہت سارے ہیں، بڑے عالیشان شہر بھی ہیں، بہت بڑے بڑے، حَسِین سے حَسِین تَرِین بھی موجُود ہیں مگر کسی کا بھی نام مَدِیْنَہنہیں ہے، مَدِیْنَہ صِرْف ایک ہی ہے۔ آخِر کیا وجہ ہے؟ باقی شہر تَو ہیں مگر اُن کا نام مَدِیْنَہ (یعنی شہر) کیوں نہیں ہے؟ عُلَمائے کرام نے اس کی 2 وجہیں لکھی ہیں، فرماتے ہیں: مَدِیْنَہ کا ایک معنیٰ اطاعت کرنا بھی ہوتا ہے، اس لیےبڑا شہر جہاں سلطان کی رہائش ہو، اسے مَدِیْنَہ کہتے ہیں کیونکہ وہاں سلطان کی اطاعت کی جا رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا چُونکہ دو جہاں کے سلطان، شہنشاہِ کون و مکان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینۂ پاک میں تشریف فرما ہیں، کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بادشاہ ہو یا غُلام سب یہاں اطاعت ہی کرتے ہیں۔ اس لیے اسے مدینہ کہتے ہیں ۔
میرے آقا کا وہ دَرْ ہے جس پر ماتھے گھس جاتے ہیں سرداروں کے([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami