Share this link via
Personality Websites!
آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّمنےفرمایا: مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ اَحَبَّنِي وَمَنْ اَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
2فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم :(1): جو وعدہ پُورا نہیں کرتا، اُس کا کوئی ایمان نہیں۔([2]) (2):جو مسلمان اپنے بھائی سے وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ پاک اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔([3])
اے عاشقانِ رسول! وعدہ پورا کرنا سُنّتِ مصطفےٰ بلکہ سُنّتِ انبیا ہے*ہمارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم وعدے کے بہت پَکے تھے اور*وعدہ توڑنے کو بہت ناپسند فرماتے تھے *اِعْلانِ نبوت سے پہلے ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ سے عَرْض کیا: آپ ٹھہرئیے! میں ابھی آتا ہوں، وہ شخص چلا گیا مگر واپس آنا بھول گیا، 3دِن کے بعد اُسے دوبارہ یاد آیا، جب یہ اسی جگہ پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رِہ گیا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم 3دِن گزرنے کے باوُجود وہیں تشریف فرما تھے اور مَاشَآءَ اللہ! شفقت و رَحْمت اور حُسْنِ اَخلاق دیکھئے! آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے ڈانٹا نہیں اور نہ ہی جلال فرمایا، بَس اتنا فرمایا: اے شَخْص! تُو نے مجھے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami