Share this link via
Personality Websites!
کے تمام اَفْعَال تَنْدُرُستوں کی طرح ادا فرمائے، پھر مدینۂ طیبہ بھی بااَدب، پُرکیف حاضِری ہوئی۔([1])
میٹھا مدینہ دُور ہے، جانا ضرور ہے جانا ہمیں ضرور ہے، جانا ضرور ہے
ہوتا ہے سخت امتحاں، الفت کی راہ میں آتا مگر سُرور ہے، جانا ضرور ہے
عشاق کو تو ملتی ہے غم میں بھی راحت اور آتا بڑا سُرور ہے، جانا ضرور ہے
سرکار کا مدینہ یقیناً بلاشُبہ قلب و نظر کا نُور ہے، جانا ضرور ہے([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! یہ تھی مولانا نقی علی خان رحمۃُ اللہ علیہ کے عشقِ رسول کی کیفیت...! کہ آپ کو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواب میں آ کر حکم فرمایا تو آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اتنی سختی سے عَمَل کیا کہ جان کی بھی پرواہ نہیں کی بلکہ فرمایا: مدینہ طیبہ کے ارادے سے قدم دروازے کے باہر رکھ لوں پھر چاہے رُوح پرواز کر جائے۔ یعنی اپنے آقا و مولیٰ، محبوبِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے کے لئے جو کچھ میرے اختیار میں ہے وہ میں ضرور کروں گا، پھر اللہ پاک کی رحمت اور مَدَنی سرکار، انبیا کے تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کرم بےشُمار ہے، اللہ پاک اوراس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چاہیں گے تو مدینے پہنچا دیں گے، ورنہ میری طرف سے تو حکم پر عَمَل ہو چکے گا۔
آنے دو یا ڈبو دو، اب تو تمہاری جانِب کشتی تمہیں پہ چھوڑی، لنگر اُٹھا دئیے ہیں([3])
اللہ پاک ہمیں بھی *عشقِ مدینہ*یادِ مدینہ*غمِ مدینہ*ذِکْرِ مدینہ*فِکْرِ مدینہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami