Share this link via
Personality Websites!
مقدَّس مبارَک شہر سے خُوب خُوب محبّت نصیب فرمائے۔ شیخِ طریقت مولانا الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: غمِ مدینہ پانے کے لیے *سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم اور آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے سچی پکی محبّت کی جائے *آپ کی مُبارَک سنَّتوں پر عمل کیا جائے *بزرگانِ دِین (یعنی اللہ پاک کے نیک بندوں) کے حَرَمینِ طَیِّبَینِ کے اَدب و اِحترام اور تعظیم و توقیر کے واقعات پڑھے جائیں۔ ([1])
*اس کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب عاشقانِ رَسُول کى 130 حکاىات پڑھنا مفید ہے۔ اللہ پاک نصىب کرے تو اس کتاب کو پڑھنے سے مکۂ پاک ، مدىنۂ پاک اور حج وغیرہ کی محبّت دِل میں پیدا ہوسکتى ہے *اِسى طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کا نعتیہ دِیوان حدائقِ بخشش پڑھا جائے، اچھی اُردو جاننے والا اگر حدائقِ بخشش کو سمجھ کر پڑھتا رہے تو وہ بہت بڑا عاشقِ رَسُول بن جائے گا *سچى بات ىہ ہے کہ عشقِ رَسُول کے حصول مىں ماحول اور صحبت زیادہ کارگر ہے۔ صحبت کے ذَرىعے جَذبہ بڑھتا ہے۔ اب جىسا کہ کوئى حج ىا مدىنۂ پاک کى حاضرى کے لیے گىا اور اس سفر مىں کسی عاشقِ مدینہ کی صحبت نہ ملى تو اسے ذوق نصیب نہىں ہوگا لہٰذا حَرَمینِ طَیِّبَینِ کا سفر اہلِ ذوق اور اہلِ عِلم (کسی عاشِقِ رسول مفتی صاحب) کے ساتھ کرنا چاہیے *اپنے ملک میں بھی عاشقانِ رَسُول کى صحبت مىں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہیے * اَلحمدُ للہ! دعوتِ اسلامى کے سنّتوں بھرے اِجتماعات اور مَدَنى مذاکروں میں شرکت سے مدىنے شرىف کى محبّت کى چاشنى ملتى ہے۔
کاش! ہم سب کو *عشقِ مدینہ*غمِ مدینہ*دردِ مدینہ حاصِل ہو جائے، دِل مدینے کی یادوں میں کھویا رہے، لب پر ہر وقت بس مدینہ، مدینہ، مدینہ ہی جاری رہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami