Share this link via
Personality Websites!
سَلَّم نے قدم رکھے ہیں، وہ مبارک خاک خاکِ شِفَا کیوں نہ ہو گی..!! ([1])
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیِّد عالم اُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
خاکِ مدینہ کا سُرمَہ لگائیے...!!
پیارے اسلامی بھائیو! خاکِ مدینہ کی تَو کیا ہی شان ہے...!! موقع ملے تَو خاکِ مدینہ آنکھوں میں لگانی چاہیے! میسر ہو جائے تَو (زیادہ نہیں بَس) چُٹکی بھر پانی میں گھول کر پینی چاہیے، سَر پر ڈالنی چاہیے، جسم پر مَل لینی چاہیے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! برکتیں ہی برکتیں نصیب ہوں گی۔ اَلحمدُ للہ!! عاشقِ مدینہ یعنی امیر اہلسنت مولانا الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی ایک خوبصُورت ادا ہے کہ آپ مدینۂ پاک کی مبارک مٹی کو باقاعدہ سلائی کے ذریعے آنکھوں میں بطور سرمہ لگاتے ہیں۔
لگاؤ تم آنکھوں میں خاکِ مدینہ کوئی اس سے بہتر بھی سرمہ بھلا ہے
مریضو! اُٹھا کر کے خاکِ مدینہ کو لے جاؤ! اس میں یقیناً شِفَا ہے
مدینے کی مٹی ذرا سِی اُٹھا کر پیو گھول کر ہر مرض کی دوا ہے
عقیدت سے خاکِ مدینہ بدن پر مَلو تم ہر اِک درد کی یہ دوا ہے
بدن پر ہے عطار کے خاکِ طیبہ پرے ہٹ جہنّم تِرا کام کیا ہے([2])
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ للہ! مدینہ شریف مَحْبُوب شہر ہے، اللہ پاک ہمیں بھی اس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami